براعظمی ناموں کی وجوہات

From Wikipedia, the free encyclopedia

Remove ads

ہم جانتے ہیں کہ زمین پر موجود خشکی بڑے ٹکڑے کو براعظم کہا جاتا ہے۔ہم نے اپنی آسانی کے لیے ان براعظموں کو نام دیے ہیں۔ اس مضمون میں ان وجوہات کو بیان کیا جائے گا جن کی بنیاد پر یہ نام وجود میں آئے ہیں۔

افریقہ

قدیم رومن اپنی سلطنت کے سامنے موجود میں موجود خطہ ارض کو افریقہ ٹیرا (Africa Terra) کے نام سے پکارتے تھے جس کا مطلب تھا "افری (Afri) کی سرزمین"۔ لفظ "افری" اس علاقے میں موجود ایک قبیلے کا نام تھا جو فونیقی عہد میں شمالی افریقہ میں کافی پھیلا ہوا تھا۔ اس کے ایک معنی تیز دھوپ والا علاقہ بھی ہے۔

لفظ "افریقہ" سب سے پہلے قدیم رومنوں نے ہی استعمال کیا اور اس لفظ سے ان کی مراد موجود تیونس کا علاقہ تھا۔تاہم وقت کے ساتھ یہ اصطلاح بڑی ہوتی گئی اور اس میں مزید علاقے جیسا کہ تریپولیطانیہ، نیومیڈا اور موریطانیہ شامل ہو گئے۔285 عیسوی کے لگ بھگ یہ علاقے رومی حکمران ڈائیوسس کے زیر اتنظام آگئے ۔ کچھ عرصے بعد انھیں جسٹنائن اول نے دوبارہ فتح کیا۔ بازنطنی سلطنت کے آغاز پر دریائے شلف سے خلیج سرت تک کا علاقہ اس کی حدود میں شامل ہو گیا۔

قرون وسطیٰ میں جب یورپ میں دریافتیں شروع ہوئیں تو انھوں نے اس پورے خطہ ارض کو جو آگے موجودہ جنوبی افریقہ تک پھیلا ہوا تھا کو افریقہ کا نام دے دیا۔

Remove ads

امریکا

1492 میں اندلسی کرسٹوفر کولمبس نے یورپ کے مغرب میں سفر شروع کیا اور اس کا مقصد ہندوستان کی جانب مختصر راستے کی دریافت تھا لیکن وہ ایک نئی سرزمین پر جاپہنچا۔ کولمبس یہی سمجھا کہ یہ نئی سرزمین دراصل ہندوستان ہی کا مشرقی ساحل ہے۔ تاہم کولمبس کے  بعد 1502 میں اطالوی ملاح امریگو ویسپوچی خطے کے بغور مطالعہ کے بعد وہ اس نتیجے پر پہنچا کہ یہ علاقہ ہندوستان نہیں ہے۔ بعد میں اسی امریگو کے نام پر اس براعظم کو امریکا کا نام دیا گیا۔ یہ نام  براعطم امریکا دراصل دو بڑے خطوں پر مشتمل ہے جنہیں شمالی اور جنوبی امریکہ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس خطے کو امریکا کا نام جرمن نقشہ ساز مارٹن واڈسیمولر نے دیا۔ مارٹن نے 1507 میں اس علاقے کا پہلا نقشہ تیار کیا جس میں دکھایا گیا تھا کہ یورپ کے مغرب میں دو بڑے علاقے موجود ہیں۔ شمالی علاقے کو شمالی امریکا یا میکسیکانا جبکہ جنوبی  خطے کو جنوبی امریکا یا پریوانا کا نام دیا گیا۔ آج کل یہ دونوں علاقے ایک دوسرے سے الگ الگ تصور کیے جاتے ہیں حالانکہ یہ پانامہ کی ایک تنگ پٹی کی مدد سے ایک دوسرے سے منسلک ہیں

تاہم امریکا کے نام کے متعلق ایک اور کم قابل قبول نظریہ بھی موجود ہے جسے انگریز تاریخ دان الفریڈ ہڈ نے پیش کیا ہے۔ ہڈ کے مطابق لفظ امریکا "مرائیک" کی بگڑی ہوئی شکل ہے۔ ہڈ کا کہنا تھا کہ مرائیک ایک چھوٹے سے جزیرے کا نام تھا  یورپ کے مغرب میں موجود تھا۔ جہاں مختلف یورپی اقوام جایا کرتی تھیں۔ اس نام کا کوئی جزیرہ فی الحال معلوم نہیں ہے اور ہڈ کا دعویٰ اس لحآظ سے غلط معلوم ہوتا ہے کہ اس نے نظریہ ایک گمشدہ مخطوطے کی بنیاد پر پیش کیا تھا جو ہڈ کے بقول اس نے دیکھا تھا۔ہڈ باقاعدہ تاریخ دان نہیں تھا بلکہ وہ تاریخ کے ساتھ ساتھ برسٹل کی فطرت پسند تنظیم کا بھی رکن تھا اور تتلیاں پکڑنا اس کا مشغلہ تھا[1] ایک جدید مفکر جان ڈیویز کا کہنا ہے کہ ہڈ کی کہانی دراصل امریکا پر برطانوی حق کو جائز ثابت کرنے کے لیے گھڑی گئی تھی۔[2]

Remove ads

انٹارٹیکا

لفظ انٹارٹیکا دو یونانی الفاظ انٹی اور آرکٹیکوس کا مجموعہ ہے۔انٹی کا مطلب مخالف اور آرکٹک کا مطلب شمال ہے۔یعنی جو علاقہ شمال کے سامنے واقع ہے[3][4][5] ارکٹیوس یعنی شمال کا لفظ خود یونانی لفظ ریچھ کا مترادف ہے۔ اس کی وجہ آسمانی پر ستاروں کا ایک مجموعہ ہے جسے "بڑا ریچھ" کہا جاتا ہے اور یہ مجموعہ شمال کے اوپر نظر آتا ہے۔پرانے زمانے میں سمندروں میں راستہ دیکھنے کے لیے ستاروں پر بہت زیادہ بھروسا کیا جاتا تھا اسی لیے سمتوں کے نام بھی ستاروں کے مجموعوں سے بننے والی شبیہوں پر رکھا گئے تھے۔[6]

ایشیا

ایشا لفظ یونانی اصل ہے جسے ہیروڈوٹس نے 440 قبل از مسیح میں اناطولیہ اور ایرانی سلطنت کے لیے استعمال کیا تھا۔

1600 قبل از مسیح میں اناطولیہ(موجودہ ترکی) میں ایک عظیم سلطنت کا ظہور ہوا جو  بائیس دیگر ریاستوں کا مجموعہ تھی۔یہ سلطنت ہتی قبیلے کے افراد نے قائم کی اور اس سلطنت کا نام "اسوا" بتایا جاتا ہے۔ بعد میں اسی اسوا کو یونانی میں ایشیا کہا جانے لگا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ایشیا کی اصطلاح مزید مشرقی ممالک کے لیے بھی استعمال ہونے لگی اور آج ایشیا آبادی اور رقبے کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا براعظم ہے اور جعرافیائی حدود ترکی سے جاپان تک پھیلی ہوئی ہیں

لفظ ایشیا کی مزید دو وجوہات بھی بیان کی جاتی ہیں

  • "ایشیا" کا لفظ بحریہ ایجن کے علاقوں سے آیا جہاں مٹی والی زمین کو "ایسس (Asis) کہا جاتا تھا چنانچہ بحریہ ایجن کے مشرقی ساحلوں کو ایشیا کا نام دیا گیا۔
  • بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اس لفظ کی جڑیں سامی ہیں۔ سامی زبان میں یہ لفظ "آسو (Asu)" ہے جس کا مطلب چرھتا سورج ہے۔ چونکہ ایشیا مشرق میں واقع ہے اسی لیے یہ علاقہ ایشیا کہلانے لگا۔

اس لفظ سے متعلق نسبتاََ معروف نظریہ یہ بھی ہے کہ یونانی دیومالا میں اوشنس کی بیٹیوں (انھیں اوشنائڈ بھی کہاجاتا) میں سے ایک کا نام ایشیا تھا۔

Remove ads

آسٹریلیا

آسٹریلیا کا مطلب ہے جنوب کی سرزمین۔ یہ ہسپانوی زبان کا لفظ ہے جو پہلی مرتبہ اس خطہ ارض کے لیے 1625 میں استعمال کیا گیا[7] ۔ اگرچہ یہ علاقہ برطانوی کالونی بن گیا لیکن سرکاری خط کتابت میں اسے لاطینی نام یعنی آسٹریلیا ہی پکارا گیا۔ اسے باقاعدہ طور پر 1817 میں اس خطہ ارض کے نام کے طور پر تسلیم کر لیا گیا[8] [9] برطانوی بحریہ نے بھی اسے 1824 میں آسٹریلیا کے نام کو اپنا لیا[10]

یورپ

یہ لاطینی لفظ "یورپا" سے مشتق ہے۔ اور لفظ یورپا یونانی زبان سے آیا ہے جو لفظوں "یور" اور "آپس" سے مل کر بنا ہے جن کے معنی بالترتیب "وسیع" اور "چہرہ" کے ہیں۔ یعنی "یورپ" سے مراد "خوبصورت چہرہ" ہے[11] ۔ قدیم یونانی دیو مالا کے مطابق یورپا فونیقی بادشاہ ایگنر یا فونکس کی خوبصورت بیٹی کا نام تھا۔ دیوتا زیوس نے سے دیکھا تو اس پر عاشق ہو گیا اور بیل کا روپ دھار کر اس کے پاس پہنچ گیا جو اپنی سہیلیوں کے ساتھ کھیل رہی تھی۔ یورپا شرارت میں اس بیل پر سوار ہو گئی اور زیوس اسے لے کر کریٹ جزیرے آگیا۔ جہاں ان دونوں نے شادی کرلی ۔ ان دنوں کے تین بیٹے پیدا ہوئے جن کے نام مائنس، ریڈمنتھاس اور سرپنڈن رکھے گئے

ایک اور ممکنہ نظریہ ارنسٹ کلن کا ہے جس کے مطابق یورپ سامی لفظ "ایرب" سے مشتق ہیں جس کے معنی اندھیرے یا غروب آفتاب کے ہیں۔ یہ لفظ میسوپوٹیمیا (موجود عراق) سے آیا ہے کیونکہ یورپ مغرب میں واقع ہے اسی لیے اسے غروب آفتاب کی سرزمین کا نام دیا گیا۔

یورپ کی اصطلاح بطور خطہ ارض سب سے یونانیوں نے استعمال کی جسے کے شمال میں سابقہ یوگوسلاویہ (آج یہ ملک چار مزید ملکوں سربیا، بوسنیا، کروشیا اور مونٹی نیگرو میں تقسیم ہو چکا ہے) اور جنوب میں ترکی ہو۔ تاہم اس وقت یورپ ترکی سے لے کر برطانیہ تک کے علاقے کو کہا جاتا ہے[12]

Remove ads

اوشنیا

یہ نسبتاََ کم معروف علاقہ ہے۔ حتیٰ کہ ابتدائی درسی کتابوں میں اس علاقے کا ذکر ہی نہیں ہے۔ یہ دراصل چند جزائر پر مشتمل ہے جو بحر الکاہل میں پائے جاتے ہیں جن میں بونین، ہوائی، کلپرٹن، جان فرننڈز اور کیمبل جزائر مشہور ہیں۔ یہ تمام جزائر انتظامی طور پرمختلف ممالک کے زیر انتظام ہیں۔ اس کے علاوہ اس کا بیشتر رقبہ زیر سمندر ہے۔ لفظ اوشینا نام ظاہر ہے کہ انگریزی لفظ اوشن سے مشتق ہے۔ جبکہ اوشن کا لفظ بھی یونانی اصل ہے جو ایک قدیم دیوتا کا نام تھا جو سمندر پر حکمرانی کرتا تھا۔

Remove ads

دیگر

زی لینڈیا

اس براعظم کا کچھ حصہ ہی پانی سے باہر ہے جو آسٹریلیوی ملک نیوزی لینڈ سے میں واقع ہے۔ نیوزی لینڈ کو ولنذیزی ملاحوں نے سولہوں صدی میں دریافت کیا اور اس علاقے کا نام ہالینڈ کے صوبے زی لینڈ کے نام پر نیوزی لینڈ رکھا۔سائنس دانوں کے مطابق قریب 8کروڑ سے ساڑھے چھ کروڑ سال قبل یہ علاقہ بحرالکاہل میں غرق ہو گیا۔[13][14] [15][16]

پینگیا

ایک اندازہ ہے کہ سمندروں اور براعظموں کی موجودہ حالت سے قبل یہ تمام براعظم ایک خشکی کے ٹکڑے کی شکل میں ایک دوسرے سے جڑے ہوئے تھے۔ قریب پنتیس کروڑ سال قبل اس عظم ٹکڑے میں دراڑیں پڑنا شروع ہوئیں اور براعظم اپنی موجودہ شکل میں آنے لگے۔ اس عظیم براعظم کا نام پینگیا رکھا گیا ہے۔ دیگر قدیم ناموں کی طرح یہ نام بھی یونانی ہے جسے سب سے پہلے جرمن ماہر ارضیات الفریڈ ویگنر نے 1915 میں استعمال کیا۔ اس لفظ کے معنی ہیں "مکمل"۔ چونکہ یہ براعظم اس وقت تمام خشکی پر مشتمل تھا اسی لیے اس لفظ اس براعظم کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔[17][22] πᾶνΓαῖα

Remove ads

حوالہ جات

بیرونی روابط

Loading related searches...

Wikiwand - on

Seamless Wikipedia browsing. On steroids.

Remove ads